![]() |
| راجہ بابر علی ذوالقرنین مسلم لیگ ن میں شمولیت جلسہ بھمبر |
بھمبر : ریاست کی معتبر سیاسی شخصیت، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر راجہ ذوالقرنین خان کے سیاسی جانشین اور سابق ممبر کشمیر کونسل راجہ بابر علی ذوالقرنین کے حوالے سے ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 18 مئی بروز پیر وہ اپنے قریبی ساتھیوں سمیت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کریں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی بھمبر کی سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور مختلف حلقوں میں اس فیصلے کو آئندہ سیاسی منظرنامے کے لیے اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ شمولیتی اعلان بھمبر میں منعقد ہونے والے ایک بڑے جلسۂ عام میں کیا جائے گا جس میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی و صوبائی قیادت کی بھرپور شرکت متوقع ہے۔ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر انجینئر امیر مقام، صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات کی موجودگی اس جلسے کو مزید اہمیت دے رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راجہ بابر علی ذوالقرنین کا مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونا صرف ایک جماعتی تبدیلی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی سیاست میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بھمبر اور گردونواح میں ان کی مضبوط سیاسی گرفت اور عوامی رابطہ مہم اس فیصلے کو مزید اہم بناتی ہے۔
مقامی سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آنے والے دنوں میں اس شمولیت کے بعد مسلم لیگ (ن) کو ضلع بھمبر میں تنظیمی سطح پر مزید تقویت ملے گی، جبکہ مخالف سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور مقامی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے نیٹ ورکس اس تبدیلی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس شمولیت کے حوالے سے گزشتہ کئی ہفتوں سے پس پردہ رابطے اور مشاورت جاری تھی، جن میں سیاسی مستقبل، تنظیمی کردار اور آئندہ انتخابی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس پیش رفت کو ایک منظم سیاسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین مزید کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں اس طرح کی بڑی شمولیتیں اکثر انتخابی نتائج پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اسی لیے اس اعلان کو نہ صرف بھمبر بلکہ پورے خطے کی سیاست کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
عوامی سطح پر بھی اس خبر پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ حلقے اسے ترقیاتی سیاست کے نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے سیاسی اتحادوں کی نئی صف بندی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر یہ خبر سیاسی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
آنے والے دنوں میں اس جلسے اور شمولیت کے بعد مزید سیاسی رابطوں اور ممکنہ اتحادوں کے امکانات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن پر تمام سیاسی جماعتیں قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
AdSense Space:
