اپنے کاروبار کی تشہیر کرائیں

اپنی دکان یا سروس آسانی سے لوگوں تک پہنچائیں

آزاد کشمیر میں 9 جون کے احتجاجی مارچ سے نمٹنے کے لیے 14 ہزار اضافی فورسز طلب

آزاد کشمیر میں 9 جون 2026 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے پیشِ نظر امن و امان قائم رکھنے کے لیے وفاق، پنجاب اور سندھ سے 14000 اضافی فورسز

Azad Kashmir official letter for 14000 additional police force
آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی جانب سے چیف سیکرٹری داخلہ کو لکھا گیا

 مظفرآباد (ویب ڈیسک، ہمارا بھمبر ڈاٹ کام): آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے مرکزی دفترِ پولیس (مظفرآباد) نے 9 جون 2026 کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال اور لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے وفاق اور دیگر صوبوں سے 14 ہزار اضافی سیکیورٹی نفری مانگ لی ہے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) آزاد کشمیر، کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی جانب سے چیف سیکرٹری داخلہ کو لکھے گئے باضابطہ مکتوب (نمبر 17280) کے مطابق، امن و امان کی بحالی اور مؤثر طریقے سے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آزاد کشمیر سے باہر سے سول آرمڈ فورسز اور دیگر صوبوں کی پولیس فورسز کی خدمات فوری طور پر درکار ہیں۔

اضافی نفری کی تفصیلات:

سرکاری دستاویز کے مطابق درج ذیل سیکیورٹی فورسز کی ڈیمانڈ کی گئی ہے:

  1. فیڈرل کانسٹیبلری (FC): 6,000 نفر

  2. پاکستان رینجرز: 5,000 نفر

  3. اسلام آباد پولیس: 2,000 نفر

  4. سندھ پولیس: 1,000 نفر

  • کل میزان: 14,000 نفر

اینٹی رائٹ ایکوپمنٹ اور اسلحہ کی شرط:

مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا اضافی نفری میں سے 60 فیصد نفری کے پاس اینٹی رائٹ ایکوپمنٹ (بشمول گیس، شیلڈز وغیرہ) ہونا ضروری ہے، جبکہ 40 فیصد نفری باقاعدہ اسلحہ اور ایمونیشن سے لیس ہونی چاہیے۔

یہ نفری 07 جون سے 21 جون 2026 تک (کل 15 ایام کے لیے) درکار ہوگی۔ خط میں وزارتِ داخلہ حکومتِ پاکستان کو فوری متحرک کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پولیس کی یہ نفری بلیک (ایلیٹ کمانڈو) یونیفارم میں ملبوس ہو۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Hamara Bhimber Digital Welcome to WhatsApp chat
Howdy! How can we help you today?
Type here...